We are the largest independent & proactive PTI supporters community

An idea to resolve ticket disputes in PTI urgently

اسلام وعلیکم،

تحریک انصاف اپنی تاریخ کا سب سے اہم الیکشن لڑنے جا رہی ہے. آنے والا وقت اس بات کی گواہی دے گا کہ 2018 کے الیکشن نے پاکستان کی قسمت کا فیصلہ کیا ۔ تحریک انصاف میں ٹکٹوں کی تقسیم کے بعد ایک بھونچال آیا ہوا ہے جس کے بارے پارٹی کو فوری حکمت عملی تیار کرنی چاہیے۔ رویو کمیٹی اس معاملے میں ایک اچھی پیشرفت ہے ۔

خانصاحب نے پہلے ہی واضح کر دیا تھا کہ تحریک انصاف اس دفعہ مضبوط امیدوار میدان میں اتارے گی جو الیکشن میں تجربہ رکھتے ہوں ۔

اور پھر خانصاحب نے اسے مزید واضح کرنے کے لیے کہا کہ کرکٹ میچ کے لیے ہاکی ٹیم کیسے کھیلے گی ۔ اس سال کا الیکشن گزشتہ الیکشن سے کافی مختلف ہے۔ تحریک انصاف اس الیکشن سے پہلے کبھی بھی فیورٹ جماعت بن کر نہیں ابھری ۔ دوسری طرف ن لیگ کے لیے یہ الیکشن جیتنا بھی زندگی اور موت کا مسئلہ بن چکا ہے۔ ہر کیس میں سزا ہوتی نظر آ رہی ہے اور الیکشن جیت کر کسی طرح ان کیسوں سے جان چھڑوانا چاہتے ہیں ۔ الیکشن ہار کر تو یقیناََ بچنے کا زیرو چانس ہے۔ ہزاروں ارب کی کرپشن ہوئی ہے پاکستان میں گزشتہ سالوں میں ہر مہینےاور پاکستان میں کتنے لوگ پڑھے لکھے ہیں ، کتنے ووٹ بیچ دیتے ہیں، پڑھے لکھے جاہل کتنے ہیں ، کرپٹ نظام میں ملوث کتنے ہیں ، اگر ان سب کا شمار کریں تو آپ کو نظر آ جائے گا کہ تحریک انصاف مضبوط امیدواروں کے بغیر جیتی ہوئی بازی ہار جائے گی ۔ عمران خان اور پاکستان کے تمام محب وطن پاکستانی تحریک انصاف کو کامیاب ہوتا دیکھنا چاہتے ہیں ۔

اس صورتحال میں تحریک انصاف کے وہ جانثار جو گزشتہ کئی برسوں پارٹی کے لیے اپنا خون پسینہ بہاتے رہے۔ جو بالکل پارٹی ٹکٹ کے حقدار تھے مگر موجودہ نظام اور صورتحال کے مدنظر پارٹی نے انھیں الیکشن لڑوانے کے بجائے کسی اور کا انتخاب کیا گیا۔ بہت سے پارٹی کارکن ان رہنماوں کے ساتھ مصروف عمل تھے اور ان سب کو مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔ ایسے میں مخالف جماعت نے اس کا بھرپور فائدہ اُٹھانے کی کوشش کی اور میڈیا پر بھی اس کو کافی اُچھالا گیا جیسے یہ سب تحریک انصاف کے مامے لگتے ہیں۔

یہاں پر میں صرف دو باتوں پر آپ کی توجہ دلانا چاہتا ہوں ۔ جہاں ایک تجربہ کار سیاستدان کی اہمیت ہے وہاں ساتھ ہی ساتھ ہمیں یہ تحریک انصاف کے جانثار بھی چاہیں اس الیکشن میں بھرپور پرفارمنس کے لیے۔ اس لیے ہر طرح کی تقسیم کو فوری ختم کیا جائے ۔  دوسری بات جو خاص طور پر میں کہنا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ جن لوگوں کو ٹکٹ نہیں ملی جیسے کہ لاہور میں ولید اقبال ، عاطف چوہدری ، ملک وقار ، سیالکوٹ میں تحریک انصاف کے بانی کارکن عمرمائیر ، اور کئی اور تحریک انصاف کے ٹائیگرز۔ ان سب لوگوں کو اگر تحریک انصاف بنی گالا بلا کر اعتماد میں لیتی اور انہیں بتاتی کہ انہیں آگے کہیں اور پلیس کیا جائے گا اور اس وقت کے یہ تقاضے ہیں ۔ تو آج صورتحال تھوڑی مختلف ہوتی ۔ پرانا ورکر ٹکٹ سے زیادہ عزت چاہتا ہے، ان کی بھی معاشرے میں مذاق بنا کہ وہ ادھر تیاریاں کرتے پھر رہے ہیں الیکشن کی اور آپ انھیں سرپرائز دے رہے ہیں۔ ابھی بھی دیر نہیں ہوئی ، ہماری عمران خانصاحب سے اپیل ہے کہ ان لوگوں کی پرانے ساتھیوں کی تضحیق نہیں ہونی چاہیے کسی بھی صورت۔ اپنے جوشیلے انصافینز سے بھی درخواست کروں گا کہ وہ کسی کی دل آزاری سے پرہیز کریں ۔ اگر کوئی احتجاج بھی کرے تو وہ اس کا حق ہے ۔

جن دوستوں کو ٹکٹ نہ مل سکے ان سے بھی درخواست ہے کہ علی محمد خان کی طرح کھلے دل سے اسے قبول کرے کہ ہمارا مقصد کوئی ذاتی نہیں بلکہ ایک قومی نظریہ ہے۔ پارٹی کی طرف سے جو بھی آخری فیصلہ آئے اس کے بعد سب کو ایک ہو کر یہ الیکشن لڑنا ہے۔

Leave a Comment