We are the largest independent & proactive PTI supporters community

گستاخانہ خاکوں کی اشاعت پر مسلم دنیا کو ایک ہونا ہوگا ۔ معاملہ اقوام متحدہ اور او آئی سی میں اٹھائیں گے. وزیراعظم عمران خان کا سینٹ میں پہلا زوردار خطاب

آپ کو یاد ہو گا 2012 میں یوٹیوب پر ایک گستاخانہ فلم ریلیز کی گئی تھی، جس پر ساری دنیا میں احتجاج ہوا تھا اورپاکستان میں بھی عاشقانِ رسول نے اس پر اپنی آواز بلند کی تھی۔ تب پاکستان میں اس گستاخانہ فلم کے خلاف سب سے پہلی آواز بلند کرنے والا پی ٹی آئی سوشل میڈیا تھا اور احتجاج کرنے والی پاکستان تحریکِ انصاف تھی۔

اگلے ہی سال عمران خان کو انڈیا ٹوڈے کے زیراہتمام ایک سیمینار کے لیے بھارت مدعو کیا گیا جس کی عمران خان نے حامی بھر لی۔ لیکن چند روز اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا کہ اس کانفرنس میں برطانیہ سے ملعون سلمان رشدی بھی آ رہا ہے۔

عمران خان نے فوری طور پر بھارت میں موجود ذرائع سے اس خبر کی تصدیق کروائی اور تصدیق ہوتے ہی عمران خان نے اس کانفرنس میں شرکت سے معذوری ظاہر کر دی اور بغیر کسی لگی لپٹی کے یہ کہہ دیا کہ وہ ایک ایسے شخص کے ساتھ سٹیج شئیر نہیں کریں گے جس نے ڈیڑھ ارب مسلمانوں کا دل دکھایا ہو اور ان کے جذبات کی توہین کی ہو۔ اس پر عمران خان کو انتہا پسند ، طالبان خان اور پتہ نہیں کیا کیا القابات سننے پڑے۔

آج پی ٹی آئی کی طرف سے سینیٹ میں گستاخانہ خاکوں کے متعلق ایک قرارداد پاس کی گئی اور وزیراعظم عمران خان نے سینیٹ میں گستاخانہ خاکوں کے متعلق دو ٹوک الفاظ میں مذمت کی اور یہ کہا کہ “مغرب کو اندازہ نہیں آپ ﷺ کے گستاخانہ خاکے شائع کر کے انہوں نے مسلمانوں کو کتنی تکلیف پہنچائی ہے, میرا مغرب میں بڑا وقت گزرا ہےانکی ذہنیت کوجانتا ہوں ، وہ آزادی رائے کے نام پر پیچھے نہیں ہٹیں گے، مغرب میں ہولوکاسٹ پر بات کرنے پر جیل کی سزاء ہے ، تب آزادی رائےکہاں جاتی ہے ؟ یہ مسلم دنیا کی ناکامی ہے ، ہم اس ایشو کو یو این او اور او آئی سی میں اٹھائیں گے اور بطور وزیراعظم ان کا یہ بیان بہت ہی اہم ہے۔

عمومی طور پر ہم نے یہ دیکھا ہے کہ لوگ اقتدار میں آ کر بدل جاتے ہیں اور پرانی حکومتوں نے تو احتجاج کیا کرنا تھا، انہوں نے تو ختم نبوت جیسے قانون کو ہی بدل دیا تھا لیکن عمران خان کے اس موضوع ایک مسلسل موقف نے یہ ثابت کر دیا ہے کہ وہ کل بھی ایک عاشقِ رسول تھا اور آج بھی ایک عاشقِ رسول ہے اور ہم کو پوری امید ہے کہ عمران خان حرمتِ رسول کے لیے کسی بھی چیز پر سمجھوتہ نہیں کریں گے اور پاکستان اسلامی دنیا میں بھی اس کے متعلق شعور جگائیں گے۔

اللہ اور اس کا رسول ﷺ ہمارے وزیراعظم کو اپنے حفظ و امان میں رکھے۔ اس شخص نے حرمتِ رسول کا پرچم تھاما ہے تو انشاءاللہ پوری دنیا کے مسلمان اس شخص کو سپورٹ کریں گے دیکھئے وزیراعظم عمران خان کا سینیٹ میں خطاب

 

Leave a Comment