Help us spread the message of change - Share with your friends

سب سے پہلے تو دونوں زرداری اور نواز شریف نے مل کر الیکشن کمیشن اور صوبوں میں عبوری حکومتیں بنائیں۔ دل کھول کر حکومتی پیسے اور زرائع کا استعمال اپنی پارٹیوں کی تشہیر کے لیے کیا گیا۔ الیکشن کے بعد نہ ووٹوں پر لگے انگوٹھوں کے نشانات تصدیق ہو سکے۔ خاص حلقوں میں ضرورت سے کئی گنازیادہ بیلٹ پیپر چھاپے گئے، جن کا کوئی حساب کتاب نہیں۔ تحریک انصاف کے اصرار پر جب یہ فارم پندرہ الیکشن کمیشن نے عدالت میں جمع کروایا تو یہ جعلی تھے۔ یعنی کے پورے کا پورا الیکشن گول ہے جس پر اب ہم جوڈیشل کمیشن کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں کہ وہ اسے کیا نام دے گا۔ کمیشن اس الیکشن کو کوئی بھی نام دے پر اسے صاف شفاف قرار دینا نا ممکن ہے، ہر صورت اس الیکشن میں دھواں دار قسم کی دھاندلی کا انکشاف ہو چکاہے۔اب یہ کمیشن نواز شریف صاحب کو اس کا ذمہ دار ٹھہرائے یا نہیں، الیکشن کو ضرور دھاندلی زدہ قرار دے گی۔

Help us spread the message of change - Share with your friends